Home / دلچسپ و عجیب /  دنیا کے وہ کئی لوگ جنہیں موت کا فرشتہ بھی چھوڑ گیا ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 دنیا کے وہ کئی لوگ جنہیں موت کا فرشتہ بھی چھوڑ گیا ویڈیو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

قرآن کریم کی سورۃ سجدہ میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے کہ. آپ فرما دیجیے کہ تم کو موت کا فرشتہ موت دیتا ہے جو تم پر مقرر ہے. یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی وفات کا وقت قریب آجاتا ہے تو ہمارے فرشتے اس کو موت دیتے اور وہ کوتاہی نہیں کرتے.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا اور انہی ملائکہ میں سے اللہ کے مقرب فرشتے حضرت عزرائیل علیہ سلام ہیں جنہیں ملک الموت بھی کہا جاتا ہے. ایک اور روایت کے مطابق دنیا کا نظام چار فرشتوں کے سپرد ہے جن میں حضرت جبرائیل علیہ سلام کے سپرد لشکر ہواؤں کا کام ہے.

حضرت میکائیل علیہ سلام کے سپرد بارش اور نباتات کا کام ہے. اسی طرح حضرت عزرائیل علیہ سلام روح کے قبض کرنے کے کام پر معمور ہیں اور حضرت اسرافیل علیہ سلام ان سبکو امر الہی پہنچاتے ہیں. ناظرین کرام ممکن ہے آپ سب کے ذہن میں بھی یہ سوال کبھی آیا ہو کہ آخر عزرائیل علیہ سلام ہی سب کی روح کیوں قبض کرتے ہیں اور کیسے کرتے ہیں؟

اس ٹاپک پر تفصیل سے بات کرتےہیں ناظرین کرام حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالی نے آدم علیہ سلام کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت جبرائیل علیہ سلام کو زمین سے کچھ مٹی لانے کو کہا گیا. جب حضرت جبرائیل علیہ سلام مٹی لینے گئے زمین نے حضرت جبرائیل علیہ سلام سے کہا میں تجھے اس ذات کی قسم دیتی ہوں جس نے تجھے میرے پاس بھیجا. تم یہ مٹی نہ لے کر جاؤ اس مٹی سے جو انسان بنے گا وہ فساد پھیلائے گا. اور خون بہائے گا تو پھر اسے آگ میں جلنا پڑے گا. یہ سن کر حضرت جبرائیل علیہ سلام اللہ کی بارگاہ میں پہنچا تو اللہ نے دریافت کیا کہ مٹی کیوں نہیں لائے؟

تو حضرت جبرائیل علیہ سلام نے زمین کا جواب سنایا اور کہا کہ اے اللہ جب اس نے آپ کی عظمت کا واسطہ ڈالا تو میں نے اسے چھوڑ دیا. تو اللہ تعالی نے حضرت اسرافیل علیہ سلام کو بھیجا تو اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا. پھر میکائیل کو بھیجا گیا ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا حتی کہ ملک الموت کو بھیجا گیا. جب زمین نے حضرت عزرائیل علیہ سلام کو بھی یہی جواب دیا تو آپ نے فرمایا اے زمین جس ذات نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے وہ تجھ سے زائد اطاعت و فرمانبرداری کے لائق ہے میں اس کے حکم کے سامنے تیری بات کیسے مان سکتا ہوں؟

چنانچہ آپ نے زمین کے مختلف حصوں سے تھوڑی تھوڑی مٹی لی اور اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے. تو اللہ نے حضرت عزرائیل علیہ سلام کو حکم دیا چونکہ تم یہ مٹی لے کر آئے ہو تو ان کی جان بھی تم ہی قبض کرو گے. حضرت عزرائیل علیہ سلام نے عرض کی کہ اگر میں انسانوں کی جانیں قبض کروں گا تو لوگ مجھ سے نفرت کرنے لگیں گے اور مجھے برا بھلا کہیں گے. تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عزرائیل علیہ سلام سے وعدہ کیا کہ کوئی تمہارا نام نہیں لے گا اور نہ ہی کوئی تمہیں برا بھلا کہے گا.

خواتین و حضرات آج آپ دیکھ لیں جب بھی کسی کو موت آتی ہے تو کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ جناب عزرائیل علیہ سلام رات کے دو بجے آئے اور اس کی جان لے گئے. بلکہ ہر کسی کے منہ سے یہی سننے کو آتا ہے کہ فلاں کی ہارٹ اٹیک سے موت ہوگئی. یا کسی کی ایکسیڈنٹ سے موت ہوگئی یا کسی اور بیماری کی وجہ سے. لیکن ملک الموت کا نام کوئی نہیں لیتا.

خواتین و حضرات بیاں ہوتا یہ ہے کہ ملک الموت دن میں کئی مرتبہ لوگوں کے چہرے دیکھتے ہیں. جس کی عمر پوری ہو جاتی ہے اور رزق دنیا سے ختم ہو جاتا ہے تو اس کی روح قبض فرماتے ہیں. جب وہاں موجود لوگ رونے لگتے ہیں تو ملک الموت دروازے کے پھٹ پکڑ کر کھڑے ہو جاتے اور فرماتے ہیں کہ میں نے تمہارا کوئی قصور نہیں کیا. میں تو اللہ کی طرف سے معمور ہوں نہ میں نے مرنے والے کا رزق کھایا اور نہ ہی اس کی روح قبض کی اور مجھے تو تمہارے پاس بار بار آنا ہے.

حضرت حسن رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اگر اس فرشتے کو دیکھ پائیں اور اس کے کلام کو سن لیں تو میت کو بھول کر خود اپنے آپ کو رونے لگ جائیں. ناظرین کرام ایک اور حدیث کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ سلام ایک روز اپنے گھر تشریف فرما تھے. کہ اچانک گھر میں ایک خوبصورت شخص داخل ہوا آپ نے پوچھا اے اللہ کے بندے تجھے اس گھر میں کس نے داخل ہونے دیا؟

اس نے کہا کہ گھر والے نے آپ علیہ سلام نے فرمایا بے شک صاحب خانہ کو اس بات کا علم ہے. یہ تو بتاؤ تم کون ہو؟

اس نے کہا میں ملک الموت ہوں. آپ نے فرمایا مجھے تمہاری چند نشانیاں بتائی گئی ہیں مگر تم میں ان میں سے کوئی ایک نشانی بھی نظر نہیں آ رہی. تو ملک الموت نے پیٹ پھیر لی آپ نے دیکھا تو ان کے جسم پر آنکھیں ہی آنکھیں نظر آنے لگی. اور جسم کا ہر بال نوک دار تیر کی طرح کھڑا تھا. ابراہیم علیہ سلام نے فورا تحفظ پڑھا اور ان سے کہا کہ آپ اپنی پہلی شکل پر تشریف لے آئیں.

جو اس کی ملاقات کو بہتر جانتا ہے تو ملک الموت کو اسی شکل میں بھیجا جاتا ہے جس میں میں حاضر ہوا ہوں. ایک دوسری روایت میں یوں بیاں ہوتا ہے کہ جب اس نے پیٹ موڑی تو اس کی وہ شکل آئی جس سے وہ برے لوگوں کی روح قبض کرتا ہے.

ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ سلام نے سوال کیا کہ اے ملک الموت آپ مجھے وہ صورت دکھائیں جس میں آپ کفار کی روحوں کو قبض کرتےہو تو عزرائیل نے کہا کہ یہ آپ کی طاقت سے باہر ہے. تو ملک الموت نے وہ صورت دکھانی شروع کی اور فرمایا کہ آپ اپنا منہ موڑ لیجیے.

اب جو دیکھا تو ایک سیاہ شخص ہے سر میں آگ کے شعلے نکل رہے ہیں جسم سے بال کے بجائے منہ سے آگ نکل رہی ہے. یہ حال دیکھ کر آپ پر غشی طاری ہوگئی. اس کے بعد آپ نے ملک الموت کو دیکھا تو وہ اپنی شکل میں موجود تھے. آپ نے ملک الموت سے کہا کہ اگر کسی کو محض تمہاری شکل ہی دیکھنے کی تکلیف برداشت کرنی پڑے تو یہ ان کے لیے بہت بڑی تکلیف ہے.

اب ذرا یہ بتائیں کہ مومن کی روح کس طرح قبض کرتے ہیں ؟

ملک الموت نے کہا کہ ذرا منہ پھیر لیجیے آپ علیہ السلام نے منہ پھیر کر جو دیکھا تو آپ کے سامنے ایک حسین نوجوان کھڑا تھا. جس کا جسم مہک رہا تھا اور اس کے کپڑے سفید تھے. حضرت ابراہیم علیہ سلام نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا

کہ اگر مومن کو صرف آپ علیہ سلام کی دیدار کی دولت ہی نصیب ہو جائے تو اس کے لیے یہی کافی ہے.

ناظرین کرام اللہ ہمیں موت کی تیاری ملک الموت سے خوش شکل ملاقات اور آخرت میں نجات کی فکر کی توفیق عطا فرمائے. آمین ثم آمین.

About Khabrnamcha

Check Also

تیراک پر مگرچھ کا حملہ، ویڈیو بچے نہ دیکھیں

سوشل میڈیا پر مگرمچھوں کی ویڈیو اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جنہیں دیکھ کر صارفین …