Home / دلچسپ و عجیب / پاکستان نے ایٹم بم کا بھی باپ نکال لیا

پاکستان نے ایٹم بم کا بھی باپ نکال لیا

عین اس روز جب اُس زمانہ کے پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر آئزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لیے جوہری توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

یہ آغاز تھا پاکستان کے جوہری پروگرام کا یا دراصل یہ پاکستان کی طرف سے پیمان تھا کہ وہ جوہری توانائی، اسلحہ کی تیاری کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں پاکستان میں اس مسئلے پر کافی لے دے ہوئی تھی کیونکہ بہت سے مبصرین کے نزدیک صدر آئزن ہاور کا ایٹم برائے امن کے منصوبہ کا اصل مقصد امریکہ کے علاوہ دنیا کے دوسرے تمام ملکوں کو جوہری اسلحہ کی صلاحیت سے محروم رکھنا اور ان پر قدغن لگا کر انھیں جوہری اسلحہ کی تیاری سے روکنا تھا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

پاکستان نہیں چین ہے انڈیا کے جوہری نشانے پر

پاکستان جوہری پروگرام کے راز کیوں کھول رہا ہے؟

’پاکستان کے پاس انڈیا سے زیادہ جوہری بم ہیں‘

پاکستان کی طرف سے آئزن ہاور کے اس منصوبہ کو تسلیم کرنے پر پاکستان میں بہت سے لوگوں کا ماتھا ٹھنکا تھا کیونکہ یہ آغاز تھا پاکستان کی طرف سے امریکہ کے قدموں میں خود سپردگی کا۔

اسی کے فوراً بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں ہمہ گیر قربت اور تعاون کا دور شروع ہوا۔

اسی سال پاکستان امریکہ کے دو فوجی معاہدوں ’سینٹو‘ اور ’سیٹو‘ میں شامل ہوا اور امریکہ نے بھاری فوجی اور اقتصادی امداد کے عوض پاکستان کی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کیے تھے اور اپنے فوجی صلاح کار پاکستان بھیجے تھے اور اسی کے ساتھ پاکستان کے پانچ سالہ اقتصادی منصوبہ کی تیاری کے لیے امریکہ نے اپنے ماہرین پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن میں تعینات کیے تھے۔

یوں امریکہ نے پاکستان کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لے لیا تھا۔

جوہری ہتھیار
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان پر امریکہ کے اثر کی مکمل گرفت کا نتیجہ یہ رہا کہ اُس زمانے میں پاکستان کی قیادت نے ایک لمحہ کے لیے بھی جوہری اسلحہ کی تیاری کے بارے میں نہیں سوچا۔ عام طور پر اس وقت امریکہ کے دفاعی معاہدے جارحیت کے تدارک کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔

سنہ 1960 کی دہائی میں یہ خبریں آنی شروع ہو گئی تھیں کہ انڈیا بڑی تیزی سے جوہری تجربات کی سمت بڑھ رہا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی قیادت نے جوہری اسلحہ کے میدان میں قدم رکھنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

سنہ 1964 میں انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے انتقال پر جب پاکستان کی طرف سے تعزیتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو دلی آئے تھے تو میں وہیں تھا۔

مجھے یاد ہے کہ اس موقع پر ان سے طویل ملاقات میں انڈیا میں جوہری توانائی کے شعبہ میں پیش رفت پر بات ہوئی تھی۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ پاکستان جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے کیا کر رہا ہے تو ذوالفقار علی بھٹو نے مجھ سے یہ پیمان لے کر کہا کہ میں یہ راز افشا نہیں کروں گا، انکشاف کیا تھا کہ سنہ 1963 میں انھوں نے کابینہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری کے لیے پروگرام شروع کرنا چاہیے لیکن صدر ایوب خان اور ان کے امریکہ نواز وزیر خزانہ محمد شعیب اور دوسرے وزیروں نے ان کی یہ تجویز یکسر مسترد کر دی اور واضح فیصلہ کیا کہ پاکستان جوہری اسلحہ کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرے گا۔

پاکستان
،تصویر کا ذریعہAFP
سنہ اڑسٹھ میں جب صدر ایوب خان فرانس کے دورے پر آئے تھے تو میں ان کا دورہ کور کرنے کے لیے پیرس گیا تھا۔

اس موقعے پر فرانسسی صدر چارلس ڈی گال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیشکش کی تھی لیکن ایوب خان نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔

یہ مشورہ انھیں ان کے چیف آف اسٹاف جنرل یحییٰ خان، صدر ایوب کے اعلیٰ سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام اور منصوبہ بندی کمیشن کے نائب سربراہ ایم ایم احمد نے دیا تھا۔

اس میں شک نہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جو سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد برسراقتدار آئے تھے اور جنہوں نے پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔

abdul qadeer khan
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے فوراً بعد بھٹو نے ایران، ترکی، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا، مصر اور شام کا طوفانی دورہ کیا تھا اور میں اس سفر میں ان کے ساتھ تھا۔ اس دورہ کے دو اہم مقاصد تھے۔

ایک مقصد مسلم ممالک سے تجدید تعلقات تھا اور دوسرا پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیے مسلم ملکوں کی مالی اعانت حاصل کرنا تھا۔

دمشق میں اپنے دورے کے اس سلسلہ کے اختتام پر انھوں نے شام کے صدر حافظ الاسد سے کہا تھا کہ ان کا یہ دورہ نشاتہ ثانیہ کے سفر کا آغاز تھا اور پاکستان کی مہارت اور مسلم ممالک کی دولت سے عالم اسلام جوہری قوت حاصل کر سکتا ہے۔

اس دورے کے فوراً بعد انھوں نے سنہ 1973 میں پاکستان کے جوہری اسلحہ کی صلاحیت حاصل کرنے کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس سلسلے میں انھوں نے جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کو تبدیل کیا اور اعلیٰ سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کو برطرف کر کے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پاکستان بلا لیا۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیے انھوں نے فرانسیسی حکومت کو جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پرانی پیشکش کی تجدید کے لیے آمادہ کیا۔

بھٹو جوہری پروگرام میں جس تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے اسے امریکہ نے قطعی پسند نہیں کیا اور اس زمانہ کے امریکی وزیر خارجہ کیسنجر نے تو کھلم کھلا دھمکی دی تھی کہ اگر بھٹو نے ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ کے منصوبہ پر اصرار کیا تو وہ نہ رہیں گے۔

پاکستان
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
لیکن بھٹو نے جوہری صلاحیت کا جو پروگرام شروع کیا تھا اس پر تحقیقی کام جاری رہا۔

پاکستان کے سائنس دانوں نے کہوٹہ کی تجربہ گاہ میں سنہ چہتر میں یورینیم کی افزودگی کا کام شروع کیا۔

ان کی محنت سنہ 1978 میں رنگ لائی اور سنہ 1982 تک وہ نوے فیصد افزودگی کے قابل ہو گئے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنسدانوں نے سنہ 1984 میں جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور انھوں نے جنرل ضیاالحق سے کہا تھا کہ وہ کھلم کھلا پاکستان کی طرف سے جوہری بم کی تیاری کے عزم کا اعلان کریں لیکن ان کے امریکی نواز وزیر خارجہ اور دوسری وزیروں نے سخت مخالفت کی۔

آخر کار مئی سنہ 1998 میں جب انڈیا نے جوہری تجربات کیے تو پاکستان کے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرے اور یوں پاکستان بھی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیا۔

یہ مضمون پہلی مرتبہ 2004 میں بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا۔

About Khabrnamcha

Check Also

تیراک پر مگرچھ کا حملہ، ویڈیو بچے نہ دیکھیں

سوشل میڈیا پر مگرمچھوں کی ویڈیو اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جنہیں دیکھ کر صارفین …