Home / دلچسپ و عجیب / دنیا میں پورا ڈیم ہی ٹوٹ جانے کےآخری لمحات جو ریکارڈ ہوئے

دنیا میں پورا ڈیم ہی ٹوٹ جانے کےآخری لمحات جو ریکارڈ ہوئے

“سر وہ کچھ بھی بولنے کو تیار نہیں ہے وہ نام نہیں بتا رہامگر آپ فکر۔۔”
اپنے اسسٹنٹ کے کالر سے پکڑ کر اس کمرے کے دروازے پر مارا تھا اور وہ دروازہ ایک جھٹکے سے کھل گیا تھا
“میرے ساتھ دھوکا کرنے والا سمجھتا ہے کہ میں بیوقوف ہوں جو پاگل بن جاؤں گا۔۔
میں بہت امیر ہوں جو نقصان بھول جاؤں گا معاف کردوں گا۔۔؟؟ مگر معافی لفظ جزیل آفاق عباسی نے نہ بولنا سیکھا ہے نہ کرنا سیکھا ہے۔۔”
رسیوں میں بندھے شخص کے سر کو سامنے ٹیبل پر اتنی زور سے مارا تھا کہ وہ ٹیبل ٹوٹ گیا تھا
“پانچ منٹ ہے ان سب کا نام لکھ جو تیری اس پلاننگ میں شامل تھے۔۔”
اسے اتنا خوفزدہ کردیا تھا جزیل کی آنکھوں نے کہ وہ کانپتے ہاتھوں سے اپنا ہر گناہ اور گناہ میں شامل ساتھیوں کے نام لکھنا شروع ہوگیا تھا
“سر۔۔۔ایم سوری سر۔۔۔میں نے سب لکھ دیا ہے۔۔میں پولیس کو سٹیٹمنٹ بھی دہ دوں گا۔۔میں آپ کو چیٹ کیا میں سب بتا دوں گا۔۔۔”
بالوں سے پکڑ کر اسکا چہرہ اپنی جانب کیا تھا اتنا قریب کے اسکی لال آنکھیں کافی تھی اس ڈرے ہوئے شخص کو زندہ مارنے کے لیے
“سر۔۔س۔۔ر میرے بیوی بچے ہیں۔۔۔سر پلیز۔۔”
“تو تمہارے ساتھ ساتھ انکو بھی سز ا ملنی چاہیے کیونکہ تم یہ گناہ یہ دھوکے انکی وجہ سے کررہے تھے۔۔؟ تم نے اس بار بہت غلط شخص سے غداری کی ہے۔۔ میں تمہیں ماروں گا نہیں۔۔۔مگر جینے کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔”
اسکی پلکوں کے اشارے پر ہی کچھ لوگ آگئے تھے اس زخمی شخص کو پکڑ کر پیچھے لے گئے تھے
“سر میری فیملی کو کچھ مت کیجئے گا میں ہاتھ جوڑتا ہوں غلطی ہوگئی معاف کردیں۔۔۔”
وہ گڑگڑا رہا تھا ہاتھ پاؤں مار رہا تھا وہ اپنے باس کے قدموں میں گرکر معافی مانگنے کی کوشش میں تھا مگر اسے معلوم نہ تھا جزیل عباسی معافی کرنا نہیں جانتا تھا خواہ وہ کوئی بھی ہو۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر آپ کے والد صاحب آج دیر تک آپ کا انتظار کرتے رہے آپ کے آفس میں۔
وہ بہت باتیں کرکے گئے ہیں۔۔اور آپ کے بڑے بھائی کی شادی کے ریسیپشن۔۔”
ٹیبل پر رکھ کر جاؤ یہاں سے۔۔۔”
ٹیبل پر دونوں پاؤں رکھے جوتے سمیت وہ ٹیک لگائے اس اندھیرے سے بھرے کمرے میں بیٹھا تھا ابھی وہ کارڈ اور وہ تصاویر دیکھنا شروع ہوا تھا جو اسکی فیملی کی تھی جسے دیکھے جن سے بات کئیے بھی اسے دس سال ہوگئے تھے۔۔اس کا فون جیسے ہی رنگ ہوا تھا اس نے بنا نام دیکھے کال اٹھا کر سپیکر پر لگا دی تھی
“میں جانتا ہوں تمہیں کوئی رشتہ نہیں رکھنا کسی سے۔۔مگر میری خوشیوں میں تو شامل ہوسکتے تھے نہ تم۔۔؟”
“بھا۔۔۔ حنین۔۔۔”
نکاح کی تصویر دیکھے بغیر ہی اس نے وہ سب کچھ نیچے پھینک دیا تھا اپنی بھائی کی آواز کو سن کر
“بھائی نہیں کہو گے۔۔؟”
“کس رشتے سے۔۔؟ سب رشتے تو چھین چکے ہیں آپ مسٹر حنین۔۔ ڈیڈ کے پرفیکٹ بیٹے موم کی آنکھوں کے تارے۔۔”
“ہاہاہاہا تم ابھی بھی جیلس ہوتے ہو۔؟ اتنے بڑے بزنس مین بن گئے ہو
تمہاری بھابھی کو بتا رہا تھا تمہاری غصے کے بارے میں۔۔وہ بھی ملنا چاہتی ہے جزیل اب تو بھول جاؤ ماضی کو۔۔۔”
حنین کی آواز میں مایوسی تھی جو اسے پہلے بہت بار دیکھنے کو مل چکی تھی
“میرے پاس فضول کا وقت نہیں ہے وہی فیملی ڈرامے میں شامل ہونے کا۔۔
میں خوش ہوں آپ لوگوں کے بغیر۔۔۔ مجھے ضرورت نہیں آپ لوگوں کی خاص کر آپ کی حنین صاحب۔۔۔اگین مجھے فون مت کیجئے گا۔۔۔”
“جزیل۔۔۔جزیل۔۔۔”
جزیل فون بند کرچکا تھا۔۔۔
“واپس بلانا چاہتے ہیں تاکہ پھر سے ذلیل کرسکیں حنین یہ حنین وہ ۔۔۔
ہمارا قابل بیٹا لیفٹننٹ صاحب آپ کے ہوتے ہوئے میرا وجود کچھ نہیں موم ڈیڈ کی نظروں میں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ترکی۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“کس ان دا رین مسز حنین۔۔۔نو مور گلاسز۔۔۔”
“حنین نوووو۔۔۔۔”
ٹھنڈی تیز بارش میں اپنے ساتھ کھینچ لیا تھا حنین نے اسے برستے آسمان تلے۔۔۔
۔
“اس دردِ دل کی سفارش اب کردے کوئی یہاں
کہ مل جائے سے وہ بارش ، جو بھگا دے پوری طرح۔۔”
“حنین۔۔۔”
حنین کی نگاہیں اسکی آنکھوں سے ہوتے ہوئے اسکے لبوں پر آکر رُک رہی تھ جیسے وہ اجازت مانگ رہی ہوں۔۔۔
“نوو حنین۔۔۔ ان لمحات کو محسوس کرو۔۔جو یہیں ہیں ان بارش کی بوندوں میں اس لہراتی ہواؤں میں بارش کے اس شور میں۔۔۔محسوس کرو ان میں مجھے۔۔میری بےپناہ محبت کو۔۔”
انگلیاں کندھوں سے سرکتے ہوئے کب ویسٹ تک جا پہنچی تھی اسے خبر نہ ہوئی۔۔
بھیگے وجود میں وہ ٹھنڈ سے اتنا نہیں کانپ رہی تھی جتنی حنین کی نظریں اسے مدہوش کررہی تھی۔۔۔
“کچھ ہفتے دور کیا رہا زندگی نے جیسے چلنا چھوڑ دیا تھا۔۔دل نے جیسے دھڑکنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔”
حنین نے اسکے ہاتھوں کو جیسے اپنے سینے پر رکھا تھا اپنے دھڑکتے دل پر وہ خود بھی حیران تھی ان دھڑکنوں کی روانی کو محسوس کرتے ہوئے
“اسی لمحے کے انتظار میں تھا کہ کب کب ہم اس طرح آمنے سامنے ہوں گے ایک دوسرے کے۔۔۔
کب دھڑکنیں بےقابو ہوں گی۔۔۔
کب تم میری بانہوں کی قید میں بکھرو گی۔۔۔اور کب میں اس بکھرے وجود کو سمیٹوں گا خود میں”
۔
باتیں کرتے ہوئے وہ ہونٹ ہل رہے تو ٹچ کررہے تھے اس کی پلکوں کو جو شرم سے جھکی جارہی تھی
“حنین۔۔۔”
“کہا تھا اب کے ملیں گے تو بولنے کا موقع نہیں دوں گا بیگم۔۔۔”
بند آنکھوں کو چھوتے ہوئے وہ ہونٹ رخصار تک جیسے ہی آئے تھے وہ مچل کر پیچھے ہونا چاہتی تھی
پر اسکی گرفت اور مظبوط ہوگئی تھی اسکی ویسٹ پر۔۔
“ڈیوٹی پر جانا ہے اس بار پہلے سے زیادہ وقت لگ جائے گا سوچا کہ ان لمحات کو یاد گار بنا لوں جو آج ہیں ابھی ہیں ہمارے پاس۔۔۔”
وہ مدہوش آنکھیں ایک دم سے کھلی تھی اور اداس ہوگئی تھی
“ابھی تو ملے ہیں۔۔۔ابھی تو آئے ہو حنین۔۔۔
باریشیں تب تک اچھی لگتی ہیں جب تک تکلیف دہ ثابت نہ ہوں
یہ بارش مجھے تکلیف دے جائے گی مجھے لگ رہا ہے کہ تم سے جدا ہو جاؤں گی پھر سے”
“تم جانتی ہو نہ تمہاری یہ بڑی بڑی گہری باتیں مجھے کتنا کمپلیکس کا شکار کرتی ہیں
میں لاجواب ہوجاتا ہوں۔۔”
دونوں ہاتھ حنین کے چہرے پر رکھ کر چہرہ اپنے بہت قریب تر کرلیا تھا۔۔
حنین کے پاس کچھ بہانہ نہیں تھا اسکے لیے فرض سب سے پہلے تھا اور وہ جانتی تھی اپنے شوہر کو۔۔۔
گہرا سانس بھرے اس نے پھر سے پُر امید نظروں سے حنین کو دیکھا تھا اور درمیان کا وہ فاصلہ خود سے ختم کیا تھا
۔
“ہم دونوں آپ کو بہت مس کریں گے۔۔۔”
یہ کہتے ہی اسکے ہونٹوں نے وہ گستاخی کرڈالی تھی۔۔ وہ شرمانا چاہتی تھی۔۔
مگر وہ ان لمحات کا پورا فائدہ بھی اٹھانا چاہتی تھی۔۔۔
“ہم دونوں۔۔؟؟”
ملن کے چند لمحوں بعد حنین نے اسکے چہرے کو پیچھے کرکے پوچھا تھا
“آپ۔۔۔ ڈیڈی بننے والے ہیں ۔۔”
“وا۔۔۔وٹ۔۔۔؟؟؟ سیریسلی۔۔۔ یا اللہ تیرا شکر ہے۔۔”
اپنی بانہوں میں اٹھا کر اس نے ہوا میں لہرا دیا تھا ان دونوں کو۔۔۔
“تم اس بار میرا سفر بہت مشکل بنا رہی ہو۔۔۔بہت مشکل۔۔۔”
آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس نے پھر سے ان ہونٹوں پر بوسہ لیا تھا
ان آنکھوں پر بوسہ لیا تھا جو بارش میں بھی نم تھی۔۔۔
“جلدی آنا حنین بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔۔۔”
اسکے سینے پر سر رکھے وہ’پیا باوری’ ایک ہی بات دہرا رہی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر آج آپ بہت خوش نظر آرہے ہیں۔۔؟؟”
“جی آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔ پہلے منہ میٹھا کریں۔۔۔”
حنین نے اپنے ڈیمارٹمنٹ کے ہر پرسن ہر آفیسر کا منہ میٹھا کروایا تھا
وہ سب کو اپنی خوشیوں میں شامل کررہا تھا۔۔ کچھ دیر میں اس نے یہاں سے روانہ ہوجانا تھا
سب کچھ ریڈی تھا نیو مشن پر جانے سے پہلے اس خوشی نے اسے اور زیادہ انرجی دہ دی تھی
وہ جو سب کے چہروں پر خوشیاں بکھیرتے ہوئے اپنے کمرے میں واپس آتے ہی اسے اپنے آفس ڈیسک پر براؤں اینوولپ ملا تھا
“یہ کس نے بھیجا ہے۔۔؟”
گارڈ نے تفصیل میں زیادہ کچھ نہیں بتایا تھا
“سر یہ کوئی گیٹ پر چھوڑ گیا تھا یہ کہہ کر کے آپ کے لیے ضروری ہے یہ دیکھنا۔۔۔”
ایسا پہلی بار ہوا تھا۔۔۔ اپنے سر سے کیپ اتار کے اس نے اپنی نام پلیٹ کے ساتھ رکھ دی تھی وہ جیسے ہی سیٹ پر بیٹھا تھا اس براؤن اینولپ نے اسکے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین کھینچ دی تھی۔۔۔ اس جیسے بہادر شخص کی آنکھوں سے وہ پانی کے قدقطرے ایسے بہنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
“پریہان۔۔۔”
وہ نام کسی زہر آلود تہمت کی طرح اسکے ہونٹوں سے نکلا تھا۔۔۔ اس کاغذ کو غصے سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔۔
“چلیں حنین ہم لیٹ ہورہے ہیں۔۔”
“سر۔۔۔ سر کیا میں بعد میں آپ کو فالو کرسکتا ہوں پلیز۔۔؟ مجھے کچھ دن دیجئے۔۔”
“حنین۔۔؟؟”
سینئر آفیسر جیسے ہی سامنے آئے حنین نے اپنی آنکھیں جلدی جلدی صاف کرلی تھی۔۔
“سب ٹھیک تو ہے۔۔؟ آپکی مسز آپ اور بےبی ٹھیک ہے۔۔؟”
حنین کی آنکھیں پتھر ہونا شروع ہوگئیں تھیں جب اس نے پریہان کا سوچ کر اپنی مٹھی بند کرلی تھی
“سب ٹھیک ہے سر۔۔۔بس کچھ دن۔۔۔میں ایک کام ختم کرکے آجاؤں گا۔۔۔”
۔
وہ آفیسر جیسے ہی وہاں سے گئے تھے وہ اپنی کرسی پر گرگیا تھا اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔”
۔
“میرے جانے کے بعد یہ پیپرز اور یہ ڈاکومنٹس اس ایڈریس پر پہنچا دینا سہیل عابدین امریکہ کا ایڈریس ہے ان کا۔۔ اور انہیں کہہ دینا کہ وہ اپنی بیٹی کو لے جاسکتے ہیں۔۔۔”
“انکی بیٹی مطلب آپ کی بیوی سر۔۔؟ سب ٹھیک ہے۔۔؟”
“سب ٹھیک ہے۔۔۔”
وہ ریڈی تھا اپنے جیٹ پر جانے کے لیے اس مشن کے لیے آج اسکی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی مرجھایا ہوا چہرہ سو کہانیاں بیان کررہا تھا۔۔۔
مگر لب خاموش تھے۔۔۔
۔
وہ جیٹ منزل سے کچھ دور تھا جب کھلے آسمان تلے اس فائٹر پلین کے ٹکڑے ہوا میں بکھر گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میری فلائٹ آج رات کی ہے ڈیم اٹ وہ ڈیل میرے اہم ہے۔۔ مجھے کوئی ڈسٹربنس نہیں چاہیے۔۔۔”
وہ اپنے لارج بورڈ روم میں اپنے سٹاف کو انسٹرکشن دے رہا تھا جب اس کے کیبن کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔؟تمہیں زرا سی بھی تمیز نہیں ہے یہاں امپورٹنٹ میٹنگ۔۔۔”
اسسٹنٹ ڈانٹ غصے کو بھی اگنور کرکے جزیل کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔۔۔
“سر۔۔۔آپ کے۔۔۔آپ کے بھائی۔۔۔حنین سر۔۔۔”
“حنین کیا۔۔؟؟ پھر کوئی تماشہ کررہے ہیں وہ۔۔؟”
“سر۔۔۔سر انکی دیتھ ہوگئی ہے۔۔۔ آپ کی موم ہاسپٹل میں ہیں انہیں ہارٹ اٹیک ۔۔۔
سر آپ کو ابھی۔۔۔ابھی اپنے گھر جانا چاہیے۔۔۔ آپ کے بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔۔۔”
۔
جزیل لڑکھڑا کر پیچھے وال کے ساتھ جا لگا تھا۔۔۔ آنکھیں دھندلا گئی تھی چند سیکنڈ میں۔۔۔بڑے بھائی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے جھول رہا تھا۔۔۔وہ بچپن کی شرارتیں اسے اور آبدیدہ کرگئیں تھی۔۔۔

About Khabrnamcha

Check Also

تیراک پر مگرچھ کا حملہ، ویڈیو بچے نہ دیکھیں

سوشل میڈیا پر مگرمچھوں کی ویڈیو اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جنہیں دیکھ کر صارفین …