Home / دلچسپ و عجیب / پاکستانیوں اوربھارتیوں کے دیسی جگاڑ

پاکستانیوں اوربھارتیوں کے دیسی جگاڑ

یہ وہ 54 فوجی ہیں جو حریف ہمسایوں (انڈیا اور پاکستان) کی پریشان حال تاریخ کی دراڑوں میں پڑے نظر آتے ہیں۔

کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان سنہ 1947 اور سنہ 1965 میں دو جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔

اس کے بعد سنہ 1971 میں لڑی جانے والی ایک تیسری جنگ، جو 13 دن تک جاری رہی، کے نتیجے میں پاکستان کو اپنے مشرقی حصے، موجودہ بنگلہ دیش، سے ہاتھ دھونا پڑا۔

انڈیا کے مطابق یہ 54 فوجی جنگوں کے دوران لاپتہ ہوئے اور انھیں بعد ازاں پاکستانی قید خانوں میں رکھا گیا۔ مگر اپنے لاپتہ ہونے کے 40 سال بعد بھی کوئی واضح طور پر نہیں کہہ سکتا کہ ان فوجیوں کی حقیقی تعداد کیا تھی اور ان کے ساتھ کیا ہوا۔

گذشتہ برس جولائی میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے انڈین پارلیمان کو آگاہ کیا تھا کہ ان لاپتہ 54 فوجیوں سمیت مجموعی طور پر 83 انڈین فوجی پاکستان کی تحویل میں ہیں۔ ان 54 کے علاوہ باقی فوجی شاید وہ ہوں جو غلطی سے سرحد پار کر گئے یا مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے۔

پاکستان نے ہمیشہ کسی بھی انڈین فوجی کے پاکستان کی تحویل میں ہونے کی تردید کی ہے۔

سینیئر انڈین صحافی چندر سوتا ڈوگرہ نے کئی سال لگا کر ان 54 فوجیوں کی کہانی پر تحقیق کی ہے۔

جنگی قیدی

،تصویر کا ذریعہAFP VIA GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنسنہ 1971 کی جنگ میں پکڑے جانے والے انڈین قیدی پاکستانی قید خانے میں (فائل فوٹو)

اس تحقیق کے سلسلے میں انھوں نے ریٹائرڈ آرمی افسران، بیوروکریٹس اور ان فوجیوں کے اہلخانہ کے انٹرویوز کیے، جنگ کے دوران اور بعد میں چھپنے والے اخبارات، خطوط، یاداشتوں، ڈائریوں، تصاویر اور منظر عام پر لائے جانے والے دوسرے دستیاب ریکارڈ کی چھان بین کی ہے۔

اس حوالے سے انھوں نے ایک کتاب ’دی پریزنرز ہو نیور کیم بیک‘، یعنی وہ قیدی جو کبھی واپس نہیں لوٹے، لکھی ہے جس میں ان گمشدہ فوجیوں کے حوالے سے اہم سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

اہم سوالات جیسا کہ حقیقت میں آیا یہ فوجی محاذ جنگ پر مارے گئے تھے؟ کیا انڈیا کے پاس ایسے شواہد ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ قیدی پاکستان کی تحویل میں تھے؟ کیا پاکستان نے ان قیدیوں کو صرف اس لیے اپنی تحویل میں رکھا کہ مستقبل میں وہ انھیں سودے بازی کے لیے استعمال کر پائیں گے؟

کیا ان میں کچھ فوجی، جیسا کہ چند پاکستانی فوجی افسران سمجھتے ہیں، انڈین انٹیلیجنس اہلکار تھے جو جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے گئے؟ کیا پاکستانی تحویل میں ان پر اتنا تشدد ہوا کہ وہ انڈیا کو واپس کرنے کے قابل نہیں رہے؟ کیا 54 لاپتہ فوجیوں میں چند وہ تھے جنھیں پکڑے جانے کے فوراً بعد ہلاک کر دیا گیا تھا؟

جنگی قیدی

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنسنہ 1971 میں پکڑے جانے والے پاکستانی فوجی بنگلہ دیش کے حراستی کیمپ میں بیٹھے ہیں

سنہ 1990 کے اوائل میں انڈین عدالت میں ان لاپتہ فوجیوں کے مقدمے میں انڈین حکومت نے دو حلف نامے جمع کروائے تھے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ وہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ 54 میں سے 15 فوجیوں کو مار دیا گیا ہے۔ اس سوال کا جواب بھی جاننے کی کوشش کی گئی کہ ایسا کیوں کیا گیا۔

اور اگر ایسا ہوا بھی تو آج انڈین حکومت کا یہ موقف کیوں ہے کہ وہ تمام 54 فوجی اب بھی لاپتہ ہیں۔

انڈین صحافی چندر سوتا ڈوگرہ کہتی ہیں کہ ’یہ واضح ہے کہ (انڈین) حکومت جانتی تھی کہ گمشدہ فوجیوں میں کچھ درحقیقت مار دیے گئے تھے۔ تو پھر انھوں نے مارے جانے والوں کے نام گمشدہ کی فہرست میں کیوں رہنے دیے؟‘

’یہ بہت واضح ہے کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا تاکہ وہ فوجیوں کے اہلخانہ اور انڈین عوام کے سامنے اپنی صفائی پیش کر سکیں۔‘

ایک گمشدہ فوجی کے رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جنگی قیدی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنگی قیدیوں کے لواحقین

انھوں نے کہا کہ ’جنگ کی فتوحات کے جوش و خروش میں ہم ان فوجیوں کو فراموش کر چکے ہیں۔ میں اس کا قصور وار ماضی کی حکومتوں اور دفاعی اسٹیبلیشمنٹ کو سمجھتی ہوں۔‘

’ہم یہاں تک چاہتے تھے کہ کوئی تیسری پارٹی اس معاملے میں ثالثی کرتی اور اس حوالے سے سچ سامنے لائے۔ مگر انڈین حکومت اس پر رضامند نہ ہوئی۔‘

یہ کہانی کا ایک رخ ہے۔

صحافی چندر ڈوگرہ کو کچھ ایسے شواہد بھی ملے جو ثابت کرتے تھے کہ ان گمشدہ 54 فوجیوں میں کچھ جنگوں کے خاتمے کے بعد بھی پاکستانی جیلوں میں قید تھے اور زندہ تھے۔

مثال کے طور پر سنہ 1965 کی جنگ کے دوران ایک وائرلیس آپریٹر لاپتہ ہو گیا۔ انڈین فوج کی جانب سے ان کے اہلخانہ کو اگست 1966 میں آگاہ کیا گیا کہ وہ جنگ کے دوران مارے جا چکے ہیں۔

مگر سنہ 1974 سے 1980 کی دہائی کے اوائل تک پاکستانی قید خانوں سے رہائی پا کر واپس انڈیا آنے والے تین قیدیوں نے حکام اور وائرلیس آپریٹر کے اہلخانہ کو اطلاعات دیں کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور پاکستان کی تحویل میں ہیں۔

مگر پھر بھی انڈین حکومت کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا۔

جنگی قیدی

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

ایسا بھی نہیں ہے کہ ان فوجیوں کو ڈھونڈنے اور وطن واپس لانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

ماضی کی دو انڈین حکومتوں نے ان کی رہائی کے حوالے سے بات چیت کا آغاز کیا تھا۔ بہت سے وزرائے اعظم نے بھی اس گتھی کو سلجھانے کی سعی کی۔ سرحد کے دونوں جانب جنگوں میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں نے ان 54 لاپتہ افراد کے حوالے سے مہم بھی چلائی۔

یہ بھی نہیں ہے کہ جنگوں کے بعد پکڑے جانے والے قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوا۔ انڈیا نے سنہ 1971 کی جنگ میں پکڑے جانے والے 93 ہزار پاکستانی فوجیوں کو واپس کیا جبکہ پاکستان نے ایسے 600 لوگ واپس کیے۔

ان لاپتہ فوجیوں کے رشتہ داروں پر مشتمل دو مختلف گروہوں نے سنہ 1983 اور سنہ 2007 میں پاکستان کا سفر کیا اور مختلف جیلوں میں گئے۔ مگر انھیں کامیابی نہ مل سکی۔

فوجیوں کے چند لواحقین نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے ان کے پیاروں کو ڈھونڈنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کیں۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

سنہ 2007 میں پاکستان آنے والے گروپ کا کہنا تھا کہ ’ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ وہ (فوجی) زندہ ہیں اور پاکستان میں ہیں۔‘ تاہم پاکستانی وزارت داخلہ نے اس کی بھی تردید کی تھی۔

سنہ 2007 میں وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں کوئی انڈین جنگی قیدی موجود نہیں ہے، ہم اپنے اس بیان پر قائم ہیں۔‘

چندر ڈوگرہ کہتی ہیں کہ سچ مبہم ہے اور کوئی اسے جاننا نہیں چاہتا۔

جنگی قیدی

،تصویر کا ذریعہAFP

مگر فوجیوں کے اہلخانہ انھیں بھلانا نہیں چاہتے۔ مثال کے طور پر انڈین فضائیہ کے پائلٹ ایچ ایس گِل، جنھیں ‘ہائی سپیڈ’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، کےکیس پر غور کر لیں۔

سنہ 1971 کی جنگ میں ان کا جہاز پاکستان کے صوبہ سندھ کی حدود میں مار گرایا گیا۔ طیارے کو اڑانے والے پائلٹ ایچ ایس گل کی عمر اس وقت 38 برس تھی۔

انڈیا کی جانب سے لاپتہ فوجیوں کی فہرستوں میں ان کا نام متعدد مرتبہ شائع ہوا اور ان کے خاندان کو یقین تھا کہ وہ واپس آئیں گے۔ مگر وہ واپس نہ لوٹے۔

تین برس قبل ان کی اہلیہ، جو کہ سکول پرنسپل تھیں، کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔ ان کے بیٹے نے نوعمری میں ہی خودکشی کر لی تھی جبکہ ان کی واحد بیٹی کہاں غائب ہیں یہ بھی کسی کو نہیں معلوم۔

پائلٹ کے بھائی گربیر سنگھ گل کہتے ہیں کہ ’میں نے اب بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ زندہ ہیں۔ اگر نہیں تو ہمیں سچ بتایا جائے۔ سچ کی غیرموجودگی میں آپ امید زندہ رکھتے ہیں کہ وہ واپس آئیں گے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟‘

About Khabrnamcha

Check Also

تیراک پر مگرچھ کا حملہ، ویڈیو بچے نہ دیکھیں

سوشل میڈیا پر مگرمچھوں کی ویڈیو اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جنہیں دیکھ کر صارفین …