دنیا کی سب سے بڑی سمندری لہریں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سمندری کائی، مولسکس یا ریڑھ کے ہڈی کے بغیر رینگنے والے چھوٹے جاندار جیسے گھونگے اور سیپیاں وغیرہ اور مرجان اب تک اُن کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں کیونکہ سمندری گہرائی میں اب تک تحقیقات کے لیے زیادہ غوطہ خوری نھیں ہوئی ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ نئی دریافت ہونے والی انواع میں کئی ایسی ہیں جو موسمایاتی تبدیلی کی وجہ سے پہلے ہی مٹ جانے کے خطرے کے قریب ہیں۔

سمندر کے پانی کے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کے عمل کی وجہ سے اس میں تیزابیت پیدا ہوجاتی ہے، جں کی وجہ سے سمندری چٹانیں، خاص کر گہرے سمندر کی کائی اور مرجان، کٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔

Deep sea coral on a seamount

،تصویر کا ذریعہATLAS

،تصویر کا کیپشنمرجان اور کائی کی چٹانیں گہرے سمندروں میں سمندری انواع کی آبادیوں کے شہروں کو آباد کنے کا ماحول پیش کرتی ہیں۔

اس ریسرچ میں شامل سائسندانوں کا اصرار ہے کہ ابھی بھی ان نئی انواع کو اور اُس ماحول کو جس میں یہ رہتے ہیں اُسے محفوظ کرنے میں زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔

اس تحقیقی مشن سے دریافت ہونے والی چند اہم باتیں:

  • نئی انواع: ’گہرے سمندر میں کم از کم 12 نئی انواع کے علاوہ اس ٹیم نے 35 ایسی انواع بھی دریافت کی ہیں جن کے بارے میں پہلے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ ایسی جگہوں پر بھی پائی جاتی ہیں۔
  • موسمیاتی تبدیلی: سمندروں کے گرم ہونے کا انتباہ، ان میں تیزابیت بڑھنے کے خدشات، اور ان میں خوراک کی مقدار میں کمی ہونے کے خطرات یہ سب مل کر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جن کی وجہ سے گہرے سمندر میں رہنے والی انواع کو سنہ 2100 میں خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا ہوگا۔
  • ہائیڈرو تھرمل روشندان (یعنی گہرے سمندر میں گرم پانی میں سے گیسوں کے اخراج کے راستے): سائنسدانوں نے ایزورِز میں سمندر کی تہہ میں گرم پانیوں کے چشمے دریافت کیے تھے، ہائیڈڈرو تھرمل خطے حیاتیاتی پیداوار کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں اور انہی میں گہرے سمندر کی انواع کی آبادیاں بنتی ہیں۔

گہرے سمندروں کی آبادیاں

جیسا کہ یونیورسٹی آف لیورپول کے سمندری کیمیسٹری کے پروفیسر جارج وولف جو اس تحقیقی منصوبے میں شریک رہے ہیں کہتے ہیں: ’ہم ابھی بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس سمندر کی تہہ کی نسبت چاند اور مریخ کی سطحوں کے زیادہ تفصیلی نقشے موجود ہیں۔‘

Newly discovered coral species

،تصویر کا ذریعہATLAS

،تصویر کا کیپشناینتھرا جیماریٹا پانی میں معطل حالت میں موجود خاص قسم کی خوراک پر زندہ رہتا ہے۔

’اس لیے آپ جب بھی گہرے سمندر میں جائیں گے آپ کو نئی بات معلوم ہو گی — نہ صرف انفرادی حالت میں انواع ملیں گی بلکہ آپ کو ان کی آبادیوں والے شہر کے شہر ملیں گے۔‘

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے پروفیسر رابرٹ مرے نے ’ایٹلانٹس پراجیکٹ‘ نامی تحقیقی مشن کی قیادت کی۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پانچ برس کی طویل تحقیق کے دوران ہم پر انکشاف ہوا ہے گہرے سمندر میں کچھ ’مخصوص انواع‘ ہیں اور وہ ہمارے لیے کیا اہمیت رکھتی ہیں۔

Underwater robot

،تصویر کا ذریعہATLAS

،تصویر کا کیپشنگہتے پانی کے اندر روبوٹِک آلات کی وجہ سے ہم ان جگہوں تک رسائی حاصل کر سکے جہاں اگر انسان جاتے تو وہ دباؤ کی وجہ سے کچلے جاتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ گہرے سمندر کی تہوں میں مرجان پر آباد مختلف انواع کی آبادیاں ملیں جو گہرے سمندر میں شہر کے شہر آباد کیے ہوئے ہیں۔ ان کی وجہ سے زندگی قائم رہتی ہے۔ اس لیے خاص مچھلیاں ان خطوں کو انڈے دینے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔‘

’اگر یہ سمندر کی نیچے یہ شہر انسانوں کی مداخلت کی وجہ سے تباہ ہونا شروع ہوگئے یا انہیں نقصان پہنچنا شروع ہو گیا، تو پھر ان مچھلیوں کے پاس انڈے دینے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی اور اس جگہ کا ماحولیاتی نظام آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے مٹ جائے گا۔‘

’اسے آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ انتہائی بارش والے علاقوں کے جنگلات زمین کی سطح پر ماحولیاتی تنوّع کو برقرار رکھنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ اسی طرح گہرے سمندر کی زندگی کے لیے یہ بہت اہم ہیں۔ یہ بہت اہم جگہیں ہیں جنہیں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ یہ سب آپس میں جُڑے ہوئے ہیں۔‘

بڑے سمندروں کی لہروں میں رکاوٹیں

بحرِ اوقیانوس کے ساحلوں پر قائم تیرہ ممالک اس تحقیقی مشن میں شامل تھے، جس میں سمندری فزکس اور کیمسٹری سمیت بائیولوجیکل دریافتوں کے علاوہ اس تحقیقی مشن کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح دنیا کے درجہِ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور انسان سمندر سے اپنی خوراک اور معدنیاتی ضروریات حاصل کرنے کے لیے اس کے قدرتی عمل میں مداخلت کر رہا ہے، معلوم کیا جائے کہ ان تمام سرگرمیوں کے سمندر پر کس قسم کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

Research ship in icy North Atlantic water

،تصویر کا ذریعہATLAS

،تصویر کا کیپشنماہرین نے بحرِ اوقیانوس میں چالیس تحقیقی سفر کیے تاکہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تفصیلات جمع کر سکیں۔

سمندری لہروں کے کرنٹ اور سمندر کی تہہ میں معدنیات کا مطالعہ کرتے ہوئے انھیں معلوم ہوا کہ شمالی اوقیانوس میں گہرے سمندر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لہریں ڈرامائی طور پر سست ہو گئی ہیں۔

پروفیسر رابرٹ کہتے ہیں کہ ’ان باتوں کے اثرات بہت پیچیدہ ہیں، لیکن شاید کرّہِ ارض کے ماحولیاتی نظام کے درمیان رابطے کمزور ہو رہے ہیں کیونکہ سمندری لہروں کے کرنٹ بڑی بڑی شاہراہوں کا کردار ادا کرتے ہیں جو کھلے اور گہرے سمندروں میں پھیلی ہوئی مختلف انواع کے درمیان رابطے قائم کرنے کا کام سرانجام دیتے ہیں۔

آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل

Newly discovered coral species

،تصویر کا ذریعہATLAS

،تصویر کا کیپشنمائیکرو ہپوریلا فنبیو نامیا مرجان یا سمندری کائی سلین کے قریب گہرے سمندر میں کسی لاوے کی گدلی مٹی میں دریافت کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹروسمو کے قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت کے معیشت دان پرو فیسر کلئر آرمسٹرانگ کہتے ہیں کہ ’ان ساری دریافتوں اور اس مشن سے حاصل ہونے والے علم کی اہمیت یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہو سکے گا کہ ہم کیا کچھ کھو رہے ہیں۔‘

’سمندروں کی گہرائیاں کا معاملہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا ہے، ان کا ہمیں خیال ہی نھیں آتا، اس لیے ہم جس طرح اس ماحول کو خراب کر رہے ہیں اس کے بارے میں کچھ سوچتے ہی نہیں ہیں۔‘

کرّہِ ارض پر بڑھتی ہوئی آبادی، آلودگی میں اضافے اور سمندر میں پھیلتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں جن میں سود مند میڈیکل اور انڈسٹریل سرگرمیاں بھی شامل ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے آبی زندگی کے سائنسدان سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ سمندری زندگی کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔

پروفیسر آرمسٹرانگ کہتے ہیں کہ ’سمندر کے ذرائع لامحدود نہیں ہیں۔ انہیں محفوظ کرنا اور ان پر تحقیق کرنا اور یہ کے مستقبل میں ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو گی یہ جاننا بہت ہی مشکل کام ہے۔‘

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *