ایسا آدمی جسے دنیا کی کوئی بھی جیل نہ روک سکی

سنہ 1993 میں صدر غلام اسحاق خان سے کشیدگی اور دیگر کئی وجوہات کی بنا پر نواز شریف کی حکومت برطرف ہوئی اور پھر عدالت سے بحال بھی ہوئی مگر بالآخر جنرل وحید کاکڑ کے زمانے میں نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں کو جانا پڑا۔

،تصویر کا کیپشنآفاق احمد نے کہا کہ عام آدمی کو تو زیادہ قتل کیا گیا، باقاعدہ لہر چلتی تھی کہ بھئی آج جو لوگ مرے وہ پٹھان تھے، یا سنّی تھے، یا شیعہ تھے، بس سب مر رہے تھے

نئے انتخابات کے نتیجے میں جب بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی دوسری بار اقتدار میں آئی تب تک شہر میں خوف و دہشت کا راج قائم ہو چکا تھا۔

کراچی آپریشن کے نگرانوں میں شامل رہنے والے رینجرز کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ ’عجیب ماحول تھا۔ نامعلوم افراد پورے شہر پر راج کر رہے تھے۔ پورا شہر بدترین تشدد کی لپیٹ میں تھا۔ مختلف علاقوں میں قتل و غارت میں ملوث ان عناصر کو مکمل پشت پناہی اور مدد ملتی تھی یا پھر ان دہشتگردوں کا خوف ایسا تھا کہ پوری پوری آبادی خاموشی سے یہ قتل و غارت دیکھتی رہتی تھی۔‘

کراچی کے شہری بتاتے ہیں کہ کئی علاقوں میں ٹارچر سیل تھے، مخالفین کا اغوا اور قتل ہوتا، ان کی لاشوں کو عبرت بنا کر بوری میں بند کر کے پھینک دیا جاتا تھا، زندہ انسانوں کے گھٹنوں میں ڈرل مشین سے سوراخ کیے جاتے، کھمبوں سے لٹکا کر ان کو زندہ اور مردہ حالت میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا تھا، جسم کو آری، ہتھوڑے اور چھینی سے کاٹنا، ہاتھ پاؤں میں کیلیں ٹھونک دینا، گلے کاٹ دینا، زبان کی بنیاد پر شناخت کر کے لوگوں کو بسوں سے اتار کر مار دیا جانا سب کچھ روز کا معمول ہوتا تھا۔

آفتاب صدیقی تب کراچی کے شہری تھے اور اب شمالی لندن میں مقیم ہیں۔ آپریشن کے تناظر میں شہر کی بدامنی اور قتل و غارت کا ماحول بتاتے ہوئے انھوں نے اس وقت کراچی کے عام شہری کی زندگی میں اس خوف کی فضا کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔

’شہر میں اسلحے کی بھرمار اور مسلح گروہوں کی حکمرانی تھی۔ ریاست کی عملداری تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ پورا شہر یرغمال تھا۔ ہسپتالوں اور خیراتی اداروں تک میں سیاسی طور پر متحرک مسلح گروہ اور جتھے سرایت کر چکے تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’حکام قتل و غارت میں ملوث عناصر سے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام دکھائی دے رہے تھے۔ اور دیتے بھی کیسے؟ جس شہر میں فوج کے افسر میجر کلیم کو اغوا کیا جاتا ہو، پولیس افسران گھر سے تھانے اور تھانے سے گھر جاتے ہوئے وردی نہ پہن سکتے ہوں کہ کوئی مار دے گا، یعنی جہاں عام شہری کو جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ دینے کے ذمہ دار ادارے اپنا تحفظ نہ کر پا رہے ہوں وہاں کیا تعجب کی بات تھی کہ سیاسی کارکنوں کے قتل و غارت کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بس سے اتار کر زبان کی بنیاد پر شناخت کر کے قتل کیا جا رہا ہو، کام پر جاتے مزدور ہوں یا بچوں کو سکول لے جانے والے والدین کوئی زندہ گھر واپس نہ آتا ہو، جہاں ساس بہو اور نند بھاوج کے جھگڑے تک سیاسی دفاتر میں نمٹائے جاتے ہوں وہاں ان عناصر کو بغیر کسی فوجی آپریشن کے کیسے قابو کیا جا سکتا تھا۔‘

انھوں نے کہا ’بلاشبہ ہزاروں عام شہری اس قتل و غارت کی نذر ہوئے۔‘

اس زمانے کے کراچی کی رہائشی بتاتے ہیں کہ ان مسلح سیاسی جماعتوں کی صحیح و غلط ہر بات سے صرفِ نظر کر لینے کی اسی ریاستی روش نے ان تنظیموں کی ایسی حوصلہ افزائی کی کہ پھر ان جماعتوں کی قیادت کے لیے تنقید یا سیاسی مخالفت ایسا ’گناہ‘ بن گئی جس کی ’کم سے کم سزا موت‘ قرار پائی۔

حکام، صحافیوں اور سرکاری شخصیات و افسران کے اندازے کے مطابق صرف ایم کیو ایم اور حقیقی کے مسلح تصادم میں ہزاروں لوگ، جن میں اکثریت سیاسی کارکنوں کی تھی، جان سے گئے۔

آفاق احمد کہتے ہیں کہ ’ہمارا تنظیمی ریکارڈ گواہ ہے کہ صرف ہمارے اپنے 432 کے لگ بھگ کارکنان شہید ہوئے۔ مجھے الطاف حسین کی تنظیم کو پہنچنے والے جانی نقصان کا نہیں پتا۔‘

ایدھی فاؤنڈیشن کا ریکارڈ کہتا ہے ہزاروں ’لاوارث لاشیں‘ تو انھوں نے دفنائیں۔ شہر میں عام لوگوں کو بھی بے دریغ قتل کیا گیا۔ وہ لوگ قتل ہوئے جو باہر سے روزگار کمانے کراچی آئے تھے، ان کے تو لواحقین بھی یہاں نہیں تھے بے چارے لاوارث قرار دے کر دفنائے گئے۔

اس سوال پر کہ کس نے کس کو کیوں مارا؟ آفاق احمد نے کہا کہ عام آدمی کو تو زیادہ قتل کیا گیا، باقاعدہ لہر چلتی تھی کہ بھئی آج جو لوگ مرے وہ پٹھان تھے، یا سنّی تھے، یا شیعہ تھے، بس سب مر رہے تھے۔

جب آفاق احمد سے پوچھا گیا کہ اس قتل و غارت کا ذمہ دار وہ کسے سمجھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’غیر ملکی طاقتیں بھی کار فرما تھیں، کوئی تھا جو کراچی کو مسلسل مفلوج رکھنا چاہتا تھا، بھارت اور امریکہ کو بھی آپ نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

آفاق احمد

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنآفاق احمد نے دعویٰ کیا کہ ’آدھے لوگ تو انھوں نے خود مارے اس شک میں کہ کہیں وہ ہم سے تو نہیں مل گئے، شعیب شوبی جیسے لوگ ایسے ہی مارے گئے‘

آفاق احمد کا موقف ہے کہ ان کے کارکنان کو تو سیاسی مخالفین نے قتل کیا مگر صرف یہ ایم کیو ایم کے دھڑوں کی آپس کی جنگ کا نتیجہ نہیں تھا۔

جب انھیں بتایا گیا کہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم تو الزام لگاتی رہی ہے کہ خود ان کے کارکنوں کو حقیقی کے ارکان نے قتل کیا یا خفیہ ادارے مارتے رہے تو اپنے مخالفین کے جانی نقصان پر آفاق احمد نے تسلیم کیا کہ ’اگر ہمارے لوگوں کا کوئی کردار رہا ہو گا تو اسی طرح رہا ہو گا کہ ہمارے کارکن اپنے علاقوں میں خوفزدہ تھے اور ظاہر ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے انھوں نے کہیں سے اسلحے کا بندوبست بھی کر ہی لیا ہوگا اب ۔۔۔ ظاہر ہے کہ کوئی حملہ کرنے آئے گا تو ہمارے کارکن پتھر یا ڈنڈے سے تو اپنا تحفظ نہیں کریں گے۔‘

’لوگوں کو گھروں میں گھس کر مارا جا رہا تھا، گھر جلائے جا رہے تھے تو لوگوں نے راتوں کو پہرے دیے ہوں گے اور کوئی حملہ ہوا ہو گا تو ظاہر ہے کہ جان بچانے کے لیے جانی نقصان ہوا ہو گا۔ لیکن کہیں ہم خود تو کسی لڑنے کہیں نہیں گئے۔‘

آفاق احمد نے دعویٰ کیا کہ ’آدھے لوگ تو انھوں نے خود مارے اس شک میں کہ کہیں وہ ہم سے تو نہیں مل گئے، شعیب شوبی جیسے لوگ ایسے ہی مارے گئے۔‘

ایسے حالات میں فوج، ریاست اور سیاست کی اعلیٰ قیادت کی ساتھ ساتھ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی روگردانی کی گئی جبکہ شہر میں اسلحے کی بھرمار اور ان جماعتوں کے خطرناک حد تک مسلح ہو جانے سے ’آنکھیں بند کر لی گئیں۔‘

ایسا نہیں تھا کہ صرف ایم کیو ایم اس پُرتشدد مسلح سیاست میں ملوث ہوئی یا کر دی گئی بلکہ اس سیاسی منظر نامے میں کم و بیش ہر سیاسی، لسانی، مذہبی، دینی و فرقہ وارانہ گروہ، تنظیم اور جماعت نے صرف بندوق کے لہجے میں بات کرنی شروع کر دی اور اپنے اپنے مسلح گروہ، دستے اور جتھے قائم کر لیے۔

آہستہ آہستہ کراچی کے کئی گنجان آباد علاقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں اور لسانی گروہوں کے درمیان مسلح تصادم ہونے لگے۔

پھر تو اخبارات و جرائد سے وابستہ صحافی ہوں یا سیاسی مخالفین، عمائدین ہوں یا سرکردہ شخصیات، عوامی نمائندے ہوں یا سرکاری افسران و اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عملہ ہو یا ممتاز شہری، ٹرانسپورٹرز ہوں یا تاجر، کاروباری شخصیات ہوں یا سماجی رہنما، ڈاکٹرز ہوں یا ہسپتالوں کا عملہ، ریاستّی ادارے ہوں یا عدلیہ سے متعلق اہلکار، جج اور وکلا، حتی کے طلبا ہوں یا اساتذہ، جس نے جب اور جہاں بندوقوں پستولوں سے مسلح ان گروہوں اور جتھوں پر تنقید کی یا ان کی مرضی کے خلاف آواز اٹھائی اسے جواب یا تو تشدد سے ملا یا گولی سے۔

نوبت آہستہ آہستہ پہلے اسلحے کے زور پر مخالفین کے اغوا اور پھر ان پر بدترین تشدد اور بالآخر قتل و غارت تک جا پہنچی۔

کئی گنجان آباد علاقوں میں کم و بیش ہر سیاسی، لسّانی اور مذہبی و فرقہ وارانہ گروہ اور جماعت نے اپنے اپنے عقوبت خانے یا تشدد اور قتل و غارت کے ایسے مراکز قائم کیے جن کا نام بھی دہشت خوف اور بربریت کی علامت بن کر رہ گیا۔

آفتاب صدیقی نے کہا کہ ’ہم عام شہری تو ہر وقت پیاروں کی زندگی کے لیے خوف و پریشانی میں زندہ رہتے تھے۔‘

مظہر عباس کہتے ہیں کہ کم و بیش ہر سیاسی، لسانی، مذہبی، دینی و فرقہ وارانہ گروہ، تنظیم اور جماعت کے مسلح گروہ اور جتھے تھے۔

src=”https://ichef.bbci.co.uk/news/640/cpsprodpb/825F/production/_113657333_gettyimages-51424029.jpg” sizes=”(min-width: 1008px) 645px, 100vw” srcset=”https://ichef.bbci.co.uk/news/240/cpsprodpb/825F/production/_113657333_gettyimages-51424029.jpg 240w, https://ichef.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/825F/production/_113657333_gettyimages-51424029.jpg 320w, https://ichef.bbci.co.uk/news/480/cpsprodpb/825F/production/_113657333_gettyimages-51424029.jpg 480w, https://ichef.bbci.co.uk/news/624/cpsprodpb/825F/production/_113657333_gettyimages-51424029.jpg 624w, https://ichef.bbci.co.uk/news/800/cpsprodpb/825F/production/_113657333_gettyimages-51424029.jpg 800w” alt=”ایم کیو ایم” width=”976″ height=”549″ />

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنسیاسی قائدین کا موقف یہ تھا کہ یہ لاشیں ان سیاسی جماعتوں اور ان کی ذیلی تنظیموں کے ارکان کی ہیں جنھیں ریاستی ادارے تشدد کر کے قتل کر رہے ہیں اور لاشیں، یا لاشوں کے ٹکڑے کر کے بوریوں میں بند کر کے پھینک رہے ہیں

p class=”bbc-1sy09mr e1cc2ql70″ dir=”rtl”>یہاں تک ہوا کہ سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے کارکنوں کو اغوا کرتے اور سرکاری اداروں کے حکام کی موجودگی میں ان یرغمال افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا۔

ذرائع ابلاغ کی پرانی اشاعتوں سے پتا چلتا ہے کہ یہ تشدد و قتل و غارت کسی ایک علاقے، زبان، یا کسی ایک تنظیم اور جماعت تک محدود نہیں تھا۔ ہر تنظیم اور ہر سیاسی جماعت کے ارکان موت کے اس بھیانک کھیل کا شکار ہوئے۔ تشدد کی یہ خبریں عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی جگہ پاتی تھیں۔

حکام کا الزام تھا کہ مخالفین کے ساتھ یہ تشدد اور قتل و غارت کرنے والوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل تھی۔

مگر سیاسی قائدین کا موقف یہ تھا کہ یہ لاشیں ان سیاسی جماعتوں اور ان کی ذیلی تنظیموں کے ارکان کی ہیں جنھیں ریاستی ادارے تشدد کر کے قتل کر رہے ہیں اور لاشیں، یا لاشوں کے ٹکڑے کر کے بوریوں میں بند کر کے پھینک رہے ہیں۔

کراچی کے ایک ڈاکٹر نے جو جان بچا کر برطانوی شہر برمنگھم پہنچے اور یہاں سیاسی پناہ حاصل کی، بتاتے ہیں ’میں تو ہارٹ سرجن بننا چاہتا تھا۔‘

’میرا تو قتل و غارت گری کی اس سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا، اسی خوف میں کہیں کوئی کسی دن یوں ہی بلاوجہ مجھے بھی نہ مار دیا جائے، میرے اپنے ہی خاندان نے مجھے ملک میں رہنے نہیں دیا۔‘

’امّی کہتی تھیں تم ہمارا واحد سہارا ہو بیٹا، کسی محفوظ جگہ چلے جاؤ تاکہ ہم سب کو پال سکو اور مجھے ہارٹ سرجن بننے کا خواب دیکھنے والے ڈاکٹر کو یہاں اس ملک میں ٹیکسی چلانی پڑی، کراچی میں رہ جانے والے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے، ماں باپ اور بہن بھائی کی پرورش کرنے کے لیے زندہ رہنا پڑا اور اس کی قیمت یہ تھی کہ اپنا شہر، ماں باپ، بہن بھائی، دوست یار حتیٰ کے اپنا مستقبل اور اپنے پیشہ ورانہ خواب سے بھی دستبردار ہونا پڑا۔‘

اس صورتحال میں فوج، رینجرز اور پولیس حکام کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اب تک نہ تو کراچی آپریشن کے پہلے مرحلے کے مطلوبہ نتائج مل سکے اور نہ ہی مقاصد حاصل ہو سکے بلکہ معاملات سیاست کی نذر ہو جانے سے فوج کو سبکی اور بدنامی اٹھانی پڑی۔

سندھ اور وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت پیپلز پارٹی کو ان تمام حلقوں کی سیاسی حمایت حاصل تھی جن کی جانب سے اس قتل و غارت پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔ قتل و غارت روکنے کی کوئی بھی کوشش حکومت کو اُس سیاسی حمایت سے محروم کر سکتی تھی جس کے بل پر حکومت کا اپنا وجود قائم تھا۔

کراچی

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

بالآخر وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت اور فوج کی قیادت اس فیصلے ہر پہنچی کہ کراچی آپریشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جائے۔

پھر ریاستی اداروں کی جانب سے حکومت سے کہا گیا کہ فوج کو واپس بلایا جائے اور آپریشن کلین اپ کی دوسرے اور زیادہ سخت مرحلے کی کمان اب پولیس اور نیم فوجی ادارے رینجرز کے سپرد کی جائے اور انھیں خفیہ اداروں اور ریاست کی بھرپور مدد فراہم کی جائے۔

آپریشن کے اس دوسرے مرحلے کی قیادت بینظیر بھٹو حکومت کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نصیر اللہ بابر کو سونپی گئی جبکہ پولیس کی قیادت کے لیے ڈاکٹر شعیب سڈل کا انتخاب کیا گیا۔

برطانیہ کی ساؤتھ ویلز یونیورسٹی سے کرمنالوجی میں ڈاکٹریٹ کرنے والے ڈاکٹر شعیب سڈل اس وقت راولپنڈی شہر میں ڈی آئی جی تھے۔ وہ پاکستان کی پولیس سروسز میں پہلے افسر تھے جنھوں نے کریمنالوجی میں پی ایچ ڈی کی تھی۔

خود ڈاکٹر شعیب سڈل نے کراچی آپریشن پر کھل کر طویل گفتگو کی اور شہر کا نقشہ کچھ یوں بیان کیا۔

’تھانوں، پولیس کے دفاتر، افسروں اور اہلکاروں پر منظّم حملے ہوتے تھے۔ پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر و اہلکار قتل کر دیے جاتے تھے یا حملوں کی زد میں تھے۔‘

’تھانوں کے دروازے عام آدمی پر بند تھے۔ رکاوٹیں لگا کر عام آدمی یا کسی ممکنہ حملہ آور دونوں ہی کا تھانے تک پہنچنے سے روکنے کے اقدامات ہوتے تھے۔ ریت کی بوریاں تھانوں کی چھتوں پر رکھی جاتی تھیں تاکہ کسی ممکنہ حملے میں حفاظت یا مورچہ بندی کا کام دے سکیں۔‘

ڈاکٹر سڈل نے کہا کہ ’ایک روز مغربی ضلعے میں تو خود میری گاڑی پر حملہ ہوا، ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا میرا سپاہی زخمی ہوا، مگر ہم بچ نکلے۔‘

مظہر عباس کہتے ہیں کہ آپریشن کی نگرانی کرنے والے حکام نے ساری صورتحال وزیراعظم کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ سمجھتی ہیں کہ ہم ان (پرتشدد عناصر یا حملہ آوروں) کو گرفتار کر لیں گے اور انھیں عدالتوں سے سزا ہو جائے گی، تو یہ سزا نہیں ہو گی۔‘

ایک سابق پولیس افسر نے کہا کہ ’تب وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللّہ بابر نے قتل و غارت اور دہشتگردی کے خلاف بے دریغ اور بے رحمانہ آپریشن کرنے کے لیے وزیراعظم بینظیر بھٹّو سے مکمل فری ہینڈ لیا یعنی آزادانہ کام کرنے کی اجازت طلب کی۔‘

’طاقت کا جواب طاقت سے ہی دینے کے اس فیصلے نے وہ کیا جسے انگریزی میں ’اوپننگ دا گیٹ آف ہیل‘ کہا جاتا ہے۔‘

شعیب سڈل

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنشعیب سڈل بتاتے ہیں: ‘جب 19 جون 1995 کو میں خود کراچی پولیس کا سربراہ بن کر آیا تو 25 ہزار کے قریب تعداد رکھنے والی پولیس کے مورال کا عالم یہ تھا کہ شہر کی پولیس کے سربراہ کی حفاظت کی ذمہ داری نیم فوجی اداروں کے سپرد تھی’

دونوں جانب سے یعنی پولیس اور سیاسی طور پر متحرک جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر کے درمیان ایک ایسی جنگ کا آغاز ہوا جو اگلے کئی برس تک جاری رہی۔

ایک سابق پولیس افسر نے کہا کہ ’طریقۂ کار ہی غلط تھا، سندھ ریزرو پولیس (ایس آر پی) سے بہت بڑی نفری لائی گئی ڈسٹرکٹ پولیس میں۔ فرض کریں کہ 100 لوگ لائے گئے اور ان میں سے پانچ نے بھی اوپر والوں کے حکم پر ماورائے قانون کام شروع کیے تو فیصلہ سازوں کا تو کام بن گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس آزادی سے پولیس کے کام کرنے کا طریقۂ کار ہی بدل گیا۔ کئی افسروں نے عجیب انداز اور چال چلن اپنا لیا۔ ذیشان کاظمی جیسے پولیس افسران نے تو اپنے علاقے میں جینز اور کلف والی شلوار قمیض پہننے پر پابندی لگا دی، اب اس کا کیا تعلق تھا آپریشن سے؟‘

مظہر عباس کہتے ہیں ’پولیس کے افسران کو خفیہ اداروں کے ساتھ مکمل آزادی اس حد تک دی گئی کہ انھیں عدالتوں میں بھی گرفت میں نہیں لیا جا سکا۔‘

جسٹس ناصر اسلم زاہد نے ایک موقع پر کہا کہ ’میں ان پولیس افسران کو شہر میں نہیں دیکھنا چاہتا مگر ہم نے دیکھا کہ جسٹس ناصر اسلم زاہد چلے گئے مگر وہ پولیس افسر وہیں رہے۔‘

اگرچہ پولیس افسران نے آپریشن کے اہداف حاصل کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی مگر اور بھی بہت کچھ کیا گیا اس دوران انتہائی مشکوک اور متنازع ’پولیس مقابلے‘ شروع ہوئے اور سیاسی وابستگی رکھنے والے سینکڑوں افراد مارے گئے۔

لیکن ساتھ ہی ان مقابلوں میں شریک ہونے والے پولیس افسران و اہلکاروں کی لگاتار ہلاکتوں کے ایسے سلسلے کا بھی آغاز ہوا جس نے کراچی کو دنیا کے چند خطرناک ترین شہروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔

اس قتل و غارت نے بلاشبہ ہزاروں جانوں کی بھینٹ لی، شہر کو کئی کئی دن تک محصور رکھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس چار سالہ آپریشن کے دوران 450 کے لگ بھگ افسران و اہلکار ہلاک ہوئے۔

سیاسی جماعتوں نے بھی اس دوران اپنے ہزاروں کارکنوں کی ہلاکت کے دعوے کیے۔

ریاستی اداروں پر مشتمل ایک فیلڈ انویسٹیگیشن ٹیم (ایف آئی ٹی) بنائی گئی جس میں رینجرز اور پولیس افسران شامل ہوئے۔

پاکستان سے نقلِ مکانی کر جانے والے اس وقت کے ایک نامور سیاستدان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ’ایف آئی ٹی اور پولیس نے بے دریغ وہ سب کچھ کیا جسے زیادتی کہنا کم ہو گا۔‘

کراچی

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن‘طاقت کا جواب طاقت سے ہی دینے کے اس فیصلے نے وہ کیا جسے انگریزی میں ‘اوپننگ دا گیٹ آف ہیل’ کہا جاتا ہے۔’

’پورے پورے علاقوں کا محاصرہ، پوری پوری آبادی کی خانہ تلاشی، ہر گھر سے نوجوانوں کی ناجائز گرفتاریاں، چادر اور چار دیواری کی خلاف ورزی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں۔ گھروں کی خواتین سے بدسلوکی اور بچوں کے سامنے بڑوں کی گرفتاری۔‘

سینیئر صحافی افضل ندیم ڈوگر جنگ اور جیو نیوز سے منسلک ہیں اور کراچی میں ہونے والے اس آپریشن کے دوران پیش آنے والے واقعات کی باقاعدگی سے کوریج کرتے رہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ریاست کو ایک ’منظم دہشت گردی‘ کا سامنا تھا، لیکن اگر صورتحال کو سیاسی و قانونی انداز سے ’ڈیل‘ کیا جاتا تو شاید نتائج مختلف ہوتے۔

’اگر یہ سیاسی دہشت گردی تھی تو نواز شریف یا بینظیر بھٹو کی حکومتیں 10، 10 برس تک اسی جماعت کے ساتھ اتحاد بنا کر اقتدار میں کیوں رہیں؟ یہ بھی درست ہے کہ ایسے واقعات ہو رہے تھے کہ ایک بس اغوا کر کے ’نو گو ایریا‘ لے جائی گئی اور اس میں موجود تمام ایسے مسافروں کو قتل کر دیا گیا جو اردو بولنے والے نہیں تھے۔‘

’مگر دوسری جانب فاروق دادا جیسے لوگوں کی انتہائی مشکوک اور متنازع پولیس مقابلے میں ہلاکت جیسے واقعات نے تو الٹا اثر کیا اور ایم کیو ایم تو مظلوم نظر آئی اور ہمدردی سمیٹتی رہی۔‘

ایم کیو ایم سے منسلک اور کئی جرائم میں پولیس کو مطلوب فاروق پٹنی (جو فاروق دادا کے نام سے مشہور تھے) ایک متنازع پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے تھے۔

افضل ندیم ڈوگر نے بتایا کہ ’جس ایس ایس پی راؤ انوار پر چار سو سے زیادہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے الزامات آپ آج سنتے ہیں، وہ اس وقت ایس ایچ او تھے اور یہ مقابلہ انھوں نے کیا تھا۔‘

ایف آئی آر میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ فاروق دادا نے اپنے پانچ ساتھیوں کے ہمراہ ایک شیراڈ گاڑی میں ایئر پورٹ کے قریب پولیس پر حملہ کیا اور جوابی کارروائی میں وہ مارے گئے اور ان ملزمان سے 11 یا 12 کلاشنکوف، پانچ ہزار گولیاں، دستی بم اور گولہ بارود بھی برآمد ہوئے۔

افضل ڈوگر کے مطابق ’یہ دعویٰ ہی انتہائی مضحکہ خیز تھا۔ مٹسوبشی شیراڈ جیسی چھوٹی سی گاڑی میں یا تو پانچ افراد سما سکتے ہیں یا پھر اتنا سارا اسلحہ و گولہ بارود۔ اگر یہ سب کچھ ایک شیراڈ گاڑی میں ٹھونس بھی دیا جائے تو پھر گاڑی میں بیٹھے افراد مقابلہ ہرگز نہیں کر سکتے۔‘

’آپ پوچھیں گے کہ دراصل پھر ہوا کیا تھا؟ تو ہوا یہ تھا کہ پولیس کو اطلاع ملی کی فاروق دادا گارڈن کے علاقے میں واقع اپنے فلیٹ پر موجود ہیں۔ پولیس نے چھاپہ مارا مگر وہاں نہ فاروق دادا ملے نہ ہی کوئی اسلحہ وغیرہ۔ جب پولیس ناکام واپس جا رہی تھی تو کسی علاقے والے نے یہ انکشاف کیا کہ دراصل اوپر نیچے واقع دو فلیٹ اندر سے آپس میں ملے ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ فاروق اپنے فلیٹ سے منسلک اوپر والے فلیٹ میں ہوں۔ دوبارہ چھاپے میں پولیس نے فاروق دادا کو گرفتار کیا اور ساتھ لے گئی۔‘

راؤ انوار

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن’ایم کیو ایم سے منسلک اور کئی جرائم میں پولیس کو مطلوب فاروق پٹنی (فاروق دادا) اس متنازع پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے جو بطور ایس ایچ او راؤ انوار نے کیا‘

’کئی دن بعد ہمیں اطلاع ملی کہ فاروق دادا نے ایئر پورٹ کے قریب ساتھیوں کے ہمراہ پولیس پر حملہ کیا اور جوابی حملے میں ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے۔‘

مگر آپریشن کی نگرانی کرنے والے کراچی پولیس کے سابق سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل کہتے ہیں کہ ’فاروق دادا کیس میرے دور کا پہلا واقعہ تھا اور میں اس وقت نیو یارک میں تھا جب مجھے اس کی اطلاع فون پر دی گئی تو اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کروائی گئی تھیں۔‘

’پولیس مقابلے اور جلاؤ گھیراؤ جن کی اطلاع پہلے مل جاتی‘

افضل ڈوگر بتاتے ہیں کہ ’میں ان دنوں عوام (جنگ گروپ کا شام کا اخبار جو سنسنی خیز صحافت کے لیے مشہور رہا) کا کرائم رپورٹر تھا۔ اب دوسری طرف کا احوال بھی سن لیں۔‘

کے فلاں علاقے کی طرف بھیج دیں۔ ہم سمجھ جاتے تھے کہ اب کچھ بڑا ہونے والا ہے یعنی جلاؤ گھیراؤ وغیرہ۔‘

’ہم فوٹو گرافرز یا رپورٹرز یا عملے کے ارکان کو اُدھر بھیج دیتے تھے اور کچھ دیر بعد اطلاع آتی تھی کہ وہاں کسی ماورائے عدالت ہلاکت یا متنازع سمجھے جانے والے پولیس مقابلے کے خلاف احتجاج کے دوران فائرنگ ہو رہی ہے، گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں، بازار بند کروائے جا رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جلاؤ گھیراؤ میں اگر گاڑی مکمل طور پر جل چکی ہو تو شعلے بجھ جاتے ہیں اور تصویر دیکھنے سے واقعہ زیادہ سنسنی خیز یا اصلی نہیں لگتا تھا۔ مگر جلتی ہوئی گاڑی سے اٹھتے ہوئے شعلوں کی تصویر سے واقعہ تازہ، اصلی اور زیادہ سنسنی خیز لگتا تھا، اسی لیے اخباروں کے صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس کو گاڑی جلائے جانے سے پہلے بلا لیا جاتا۔‘

’سنسنی خیز تصویروں سے واقعہ تازہ اور درست خبر لگتی تھی اور سیاسی عہدیدار کی ’کارکردگی‘ رپورٹ ہو جاتی تھی۔‘

افضل ندیم ڈوگر نے بتایا کہ ’منظم دہشت گردی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘

’ایک روز پولیس نے اطلاع دی کہ نارتھ کراچی کے فلاں سکول کے قریب ابھی ابھی پولیس مقابلہ شروع ہو گیا ہے کسی کو بھیجیں۔ میں نے اپنے ایڈیٹر کو بتایا کہ اخبار کو اشاعت کے لیے پریس بھیجنے سے روکیں کسی ’بڑے پولیس مقابلے‘ کی ابتدائی اطلاع آئی ہے۔‘

’ایڈیٹر نے پوچھا کس علاقے میں؟ میں نے بتایا کہ نارتھ کراچی کے اس فلاں سکول کی عمارت کے قریب۔ تو ایڈیٹر نے کہا ایک منٹ رکو میرے رشتہ دار اسی علاقے میں اُسی اسکول کے بالکل سامنے رہتے ہیں۔‘

’انھوں نے خبر کی تصدیق کی غرض سے اپنے رشتہ داروں کے گھر فون کیا تو پتا چلا کہ وہاں تو مکمل سکون ہے کسی پولیس مقابلے کے دور دور تک امکانات نظر نہیں آ رہے۔ ایڈیٹر نے مجھے ڈانٹا کہ کوئی جھوٹی اطلاع دے کر اخبار کی اشاعت میں دیر کروا رہا ہے، کچھ نہیں ہے میں کاپی (اخبار چھپنے) بھیج رہا ہوں۔‘

’کچھ دیر بعد کاپی پریس جانے ہی والی تھی کہ ایڈیٹر کے رشتہ داروں کے گھر سے فون آیا کہ اب کچھ پولیس کی گاڑیوں کے سائرن اور فائرنگ کی آوازیں باہر سے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ یعنی وہ مقابلہ جس کی اطلاع پولیس نے ہمیں کافی دیر پہلے دی تھی وہ اس وقت یعنی کافی دیر بعد شروع ہوا۔‘

’یعنی پولیس نے پہلے سے طے کر لیا تھا کہ ابھی کچھ دیر بعد سکول کے قریب پولیس مقابلہ ہو جائے گا۔ پریس یعنی میڈیا کو بتانے کی جلد بازی میں کسی سے ٹائمنگ کی غلطی ہو گئی تھی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ایک روز نادرن بائی پاس کے قریب پولیس چوکی پر تعینات تین پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر کے اُنھیں قتل کر دیا گیا، اگر یہی خبر اخبارات میں چھپتی تو پولیس کے لیے شرمندگی کی وجہ بنتی، خوف بھی پھیلتا اور مورال بھی ڈاؤن ہوتا۔

کراچی آپریشن

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن‘اکثر کسی سیاسی عہدیدار یا سیکٹر انچارج وغیرہ کا فون آتا تھا کہ کیا اخبار چھپنے چلا گیا؟ اگر نہیں تو کسی کو شہر کے فلاں علاقے کی طرف بھیج دیں۔ ہم سمجھ جاتے تھے کہ اب کچھ بڑا ہونے والا ہے یعنی جلاؤ گھیراؤ وغیرہ۔’

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *